علی گڑھ:27/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے شعبۂ ہندی میں ’شودھ سمیتی‘ کے افتتاحی سیشن کا جلسہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ہندی کے مشہور اسکالر اور ’راشٹر بھاشا ہندی پرچار سمیتی‘ وردھا کے صدر پروفیسر سوریہ پرساد دیکشت نے کی۔ پروفیسر دیکشت نے’اعلیٰ تعلیم اور تحقیق‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کو تعلیم و تدریس کا اعلیٰ ترین ادارہ اور تحقیق کو تعلیم کی اعلیٰ ترین منزل قرار دیتے ہوئے معیاری تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ تحقیق میں موضوعات کی یکسانیت اور دوہراؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے محقق اورسپروائزر کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ تحقیق اور تجزیہ کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر دیکشت نے کہاہے کہ تجزیہ بھی اہم ہوتا ہے مگر وہ تحقیق نہیں ہے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ کوئی بھی تحریک تہذیب کے دائرہ میں رہ کر چلائیں۔ انھوں نے یونیورسٹی کی سطح پر ریسرچ کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا ۔ شعبۂ ہندی کے سربراہ پروفیسر عبدالعلیم نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے باہمی تعاون پر زور دیا اور ریسرچ اسکالروں کی حوصلہ افزائی کی۔’شودھ سمیتی‘ کے انچارج پروفیسر معراج احمد نے تنظیم کا مختصر تعارف پیش کیا۔ معاون سکریٹری محمد رزاق نے سبھی ریسرچ اسکالروں سے تعاون کی اپیل کی۔ اس موقع پر ’شودھ سمیتی‘ سیشن 2018-19 کی ٹیم کی تشکیل کی گئی۔ اس میں سکریٹری کے عہدہ پر محمد سراج خاں، معاون سکریٹری محمد رزاق اور نوتن بھاردواج، ٹریزرار پرینکا وارشنے اور نور افشاں اور میڈیا انچارج رام کمار اور اکرم اعجاز کو مقرر کیا گیا۔ ساتھ ہی ’شودھ سمیتی‘ کے سابق عہدہ داروں کو مہمان خصوصی کے بدست سرٹیفیکٹ پیش کرکے اعزاز سے نوازاگیا۔اس موقع پر شعبۂ ہندی کے دو ریسرچ اسکالروں مسٹر شاہد کی تنقیدی کتاب ’یشپال کی کہانیوں کا آلوچناتمک اَدّھین‘ اور پرکاش چند بیروا کی کتاب ’شودھ درشٹی:سدھا اوم ڈھینگرا کا ساہتیہ‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ سمیتی کے میڈیا انچارج اکرم اعجاز نے پروگرام کی نظامت کی۔ معاون سکریٹری نوتن بھاردواج نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں شعبہ کے سبھی اساتذہ کے ساتھ ہی کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالرس اور طلبہ موجود تھے۔